اردو شعرا

شاعری، ادب، گانے

13 December 2025

19سپیکرز
182لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو وفور جذب سے ٹوٹو مگر سنائی نہ دو زمیں سے ایک تعلق ہے ناگزیر مگر جو ہو سکے تو اسے رنگ آشنائی نہ دو یہ دور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تلے سبھی کو بزم میں دیکھو مگر دکھائی نہ دو شہنشہی بھی جو دل کے عوض ملے تو نہ لو فراز کوہ کے بدلے بھی یہ ترائی نہ دو جواب تہمت اہل زمانہ میں خورشیدؔ یہی بہت ہے کہ لب سی رکھو صفائی نہ دو

— خورشیدرضوی