پیش کردہ کلام
- 01 غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
- 02 جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں
- 03 یہ ہیں جو آستین میں خنجر کہاں سے آئے
- 04 قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
- 05 چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
- 06 بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
- 07 سوچتا ہوں رات جو سورج تھا دائیں ہاتھ میں
- 08 وہ برگ خشک تھا اور دامن بہار میں تھا
- 09 اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے
- 10 کچھ دن گزرے عالیؔ صاحب عالیؔ جی کہلاتے تھے
- 11 خاک چھانی نہ کسی دشت میں وحشت کی ہے
- 12 صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں
- 13 نہ کر تلاش اثر تیر ہے لگا نہ لگا
- 14 بغور دیکھ رہا ہے ادا شناس مجھے
- 15 میں رو کے آہ کروں گا جہاں رہے نہ رہے
- 16 بات کرنے میں تو جاتی ہے ملاقات کی رات
- 17 تو چاہئے نہ تیری وفا چاہئے مجھے
- 18 کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا
- 19 دائیں بازو میں گڑا تیر نہیں کھینچ سکا
- 20 کوئی حسین بدن جن کی دسترس میں نہیں
- 21 دل کی شیرینی باتوں میں ہوتی تھی
- 22 اپنی چادر کو پرچم کر سکتی ہے
- 23 ازل سے ایک ہجر کا اسیر ہے،اخیر ہے
- 24 بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف