پیش کردہ کلام
- 01 اک بادہ شباب کا کیا کیا سرور تھا
- 02 سورج کی طرح قریۂ مہتاب میں آیا
- 03 کن کے خالق کبھی ماحول جداگانہ بنے
- 04 اعتبار نظر کریں کیسے
- 05 اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے
- 06 کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ
- 07 بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے
- 08 وعدۂ وصل یار نے مارا
- 09 وقت پیری شباب کی باتیں
- 10 درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا
- 11 مری نگاہ کہاں دید حسن یار کہاں
- 12 جنون میں کر دیا تھا کب کچھ نہیں پتہ تھا
- 13 گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
- 14 وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی ریاضی کچھ سکھادو نا
- 15 چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی
- 16 فغاں بھی چھوڑ دی فریاد بھی نہیں کریں گے
- 17 آہ جو دل سے نکالی جائے گی
- 18 تو کیا ہوا جو آپ کے ، شمار میں نہیں رہا
- 19 ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
- 20 غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- 21 یہ کیا حالت بنا رکھی ہے یہ آثار کیسے ہیں
- 22 عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
- 23 دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پر
- 24 یاد کہاں رکھنی ہے تیرا خواب کہاں رکھنا ہے
- 25 کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
- 26 مٹی! تجھ کو نذر کئے ہیں ہم نے اپنے سارے خواب