انتظار حسین

انتظار حسین

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

شاعر: مرزا غالب — پیشکش: انتظار حسین

‹ کلام کی فہرست پر واپس