پیش کردہ کلام
- 01 اینویں آندے جاندے لنگ گئی
- 02 آج سوچا تو آنسو بھر آئے
- 03 کام یہی ہے شام سویرے
- 04 گردش ارض و سماوات نے جینے نہ دیا
- 05 نکلی جو آج تک نہ کسی کی زبان سے
- 06 یہ پیلی شاخ پر بیٹھے ہوئے پیلے پرندے
- 07 کیا ضروری ہے اب یہ بتانا مرا
- 08 جس کا درد بٹاؤ گے
- 09 یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
- 10 عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سے
- 11 کاش
- 12 پھولوں میں اگر ہے بو تمہاری
- 13 اے موت انہیں بھلائے زمانے گزر گئے
- 14 تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
- 15 گزشتہ شب یوں لگا کہ اندر سے کٹ رہا ہوں
- 16 کھیلنے کودنے کی عمروں میں
- 17 رتجگا
- 18 کتنا کام کریں گے
- 19 ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے
- 20 کیسے بجھتا بھلا چراغ مرا
- 21 ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
- 22 اب بھلا چھوڑ کے گھر کیا کرتے
- 23 ان سے نین ملا کے دیکھو
- 24 بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
- 25 ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
- 26 روح من
- 27 مجھ سے کچھ ایسا واسطہ رکھا
- 28 زہر
- 29 ہم اور تم
- 30 دیدۂ سنگ میں بینائی کہاں سے آئے
- 31 آپ محبوب خدا یا مصطفیٰ
- 32 نظر تو آ کبھی آنکھوں کی روشنی بن کر
- 33 خوش بیاباں میں مگر شہر میں ڈرنا اس کا
- 34 مجھے شاد رکھنا کہ ناشاد رکھنا
- 35 یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
- 36 مہمان
- 37 خامشی کا تو نام ہوتا ہے
- 38 آخری ٹیس آزمانے کو
- 39 ویسے ہی خیال آ گیا ہے
- 40 تیری گلی میں میں نہ چلوں اور صبا چلے
- 41 مجھے در سے اپنے تو ٹالے ہے یہ بتا مجھے تو کہاں نہیں
- 42 موت کا وقت گزر جائے گا
- 43 آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخری
- 44 اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیں
- 45 گمان سارے یقین کر کے
- 46 خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا
- 47 بے وفائی کرکے نکلوں یا وفا کر جاؤں گا
- 48 اے روح محمد
- 49 تیرے جیسا کوئی ملا ہی نہیں
- 50 آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک
- 51 نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
- 52 جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
- 53 میں تکیے پر ستارے بو رہا ہوں
- 54 یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
- 55 خواب دیکھنے والی آنکھیں پتھر ہوں گی تب سوچیں گے
- 56 فرار کی پہلی رات
- 57 تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
- 58 اپنی جنگ رہے گی
- 59 ماں
- 60 تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
- 61 یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
- 62 اے شب ہجر اب مجھے صبح وصال چاہئے
- 63 پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں
- 64 جھلیا عشق کمانا اوکھا
- 65 خالی ہے ابھی جام میں کچھ سوچ رہا ہوں
- 66 لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
- 67 پیتے ہی سرخ آنکھیں ہیں مست شراب کی
- 68 مرا قلم مرے جذبات مانگنے والے
- 69 نہ بھول پائے تمہیں حادثہ ہی ایسا تھا
- 70 کس کس سے نہ وہ لپٹ رہا تھا