انتظار حسین

انتظار حسین

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ویسے ہی خیال آ گیا ہے

ویسے ہی خیال آ گیا ہے یا دل میں ملال آ گیا ہے آنسو جو رکا وہ کشت جاں میں بارش کی مثال آ گیا ہے غم کو نہ زیاں کہو کہ دل میں اک صاحب حال آ گیا ہے جگنو ہی سہی فصیل شب میں آئینہ خصال آ گیا ہے آ دیکھ کہ میرے آنسوؤں میں یہ کس کا جمال آ گیا ہے مدت ہوئی کچھ نہ دیکھنے کا آنکھوں کو کمال آ گیا ہے میں کتنے حصار توڑ آئی جینا تھا محال آ گیا ہے

شاعر: ادا جعفری — پیشکش: انتظار حسین

‹ کلام کی فہرست پر واپس