پیش کردہ کلام
- 01 بے گھری ہے کہاں ٹھکانا ہے
- 02 اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو
- 03 حسین ایسا تھا وہ کہ پڑتے نظر گیا دل
- 04 پھر ملے ہم ان سے پھر یاری بڑھی
- 05 دل کو غم سے حذر نہ ہو جائے
- 06 تم اپنے کو خود اپنے ہی جلووں میں چھپا کے
- 07 دل کس سے لگاؤں کہیں دلبر نہیں ملتا
- 08 سانوں نہر والے پل تے بلا کے
- 09 محبت میں نہ جانے کیوں ہمیں فرصت زیادہ ہے
- 10 جسے نہ میری اداسی کا کچھ خیال آیا
- 11 تو مجھ سے دور چلا جائے گا ? خدا نہ کرے
- 12 بازی پہ دل لگا ہے کوئی دل لگی نہیں
- 13 دن میں اس طرح مرے دل میں سمایا سورج