جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں تیرے نقش و نگار سوچتا ہوں اس لئے اشک تھم نہیں پاتے میں تمہیں بار بار سوچتا ہوں آنکھ سے بہہ گئیں سبھی سوچیں اتنا زار و قطار سوچتا ہوں واقعی رائیگاں گیا ہوں میں ہو کے تجھ پر نثار سوچتا ہوں خود پہ تو اختیار تھا ہی نہیں تجھ کو بے اختیار سوچتا ہوں
‹ کلام کی فہرست پر واپس