ندیم بخاری

ندیم بخاری

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں

جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں تیرے نقش و نگار سوچتا ہوں اس لئے اشک تھم نہیں پاتے میں تمہیں بار بار سوچتا ہوں آنکھ سے بہہ گئیں سبھی سوچیں اتنا زار و قطار سوچتا ہوں واقعی رائیگاں گیا ہوں میں ہو کے تجھ پر نثار سوچتا ہوں خود پہ تو اختیار تھا ہی نہیں تجھ کو بے اختیار سوچتا ہوں

شاعر: زین شکیل — پیشکش: ندیم بخاری

‹ کلام کی فہرست پر واپس