پیش کردہ کلام
- 01 درد دل یار رہا درد سے یاری نہ گئی
- 02 محبت نہیں تو جیا جائے نا
- 03 وقت پر آتے ہیں نہ جاتے ہیں
- 04 مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں لیکن خوشی نہیں
- 05 بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں کوئی رونے کا
- 06 خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم
- 07 ٹوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹوٹے
- 08 درگزر جتنا کیا ہے وہی کافی ہے مجھے
- 09 کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا
- 10 کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے
- 11 شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
- 12 کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو
- 13 میں آسماں پہ بہت دیر رہ نہیں سکتا
- 14 چار تنکوں کا سہارا کچھ نہیں
- 15 اک اک آنسو فقط نذرِ محرّم کر رہا ہوں
- 16 مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!
- 17 مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں
- 18 ٹک اک انصاف کر اتنی بھی کرتا ہے جفا کوئی
- 19 بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں
- 20 چاند ستارے قید ہیں سارے وقت کے بندی خانے میں
- 21 زندگی ایک اذیت ہے مجھے
- 22 پنواڑی
- 23 نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
- 24 بستی میں کچھ لوگ نرالے اب بھی ہیں
- 25 دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
- 26 ہم حد اندمال سے بھی گئے
- 27 حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت
- 28 اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملا
- 29 شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا
- 30 یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
- 31 تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہے
- 32 جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی
- 33 یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے
- 34 بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن
- 35 اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے
- 36 حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
- 37 یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
- 38 حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
- 39 وحشت سی وحشت ہوتی ہے
- 40 بھوک کی کڑواہٹ سے سرد کسیلے ہونٹ
- 41 کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
- 42 ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
- 43 آنکھ میں خواب زمانے سے الگ رکھا ہے
- 44 نیند میں کھلتے ہوئے خواب کی عریانی پر
- 45 تجھ سے وعدہ عزیز تر رکھا
- 46 وہ اجنبی تھا غیر تھا کس نے کہا نہ تھا
- 47 یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
- 48 کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
- 49 مدت سے یہ عالم ہے دل کا ہنستا بھی نہیں روتا بھی نہیں
- 50 پتھر سے وصال مانگتی ہوں
- 51 مجبوریاں
- 52 عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے
- 53 سینے میں خزاں آنکھوں میں برسات رہی ہے
- 54 سحر جیتے گی یا شام غریباں دیکھتے رہنا
- 55 کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
- 56 اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
- 57 محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے
- 58 جب کبھی بے شمار سوچتا ہوں
- 59 ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم
- 60 دل وہ بِگڑا ہوا بچہ ہے کہ جو مانگے گ
- 61 انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
- 62 کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
- 63 کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
- 64 محتاج ہم سفر کی مسافت نہ تھی مری
- 65 اتنا تو دوستی کا صلہ دیجئے مجھے
- 66 بصد خلوص بصد احترام کرتے چلو
- 67 تھی الگ راہ مگر ترک محبت نہیں کی
- 68 میری اک چھوٹی سی کوشش تجھ کو پانے کے لیے