ندیم بخاری

ندیم بخاری

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا!

مَیں خلا ہوتا تھا مجھ کو کیسی دنیا کر دیا! ذہن میں مکّہ بسایا، دِل مدینہ کر دیا بادِ طیبہ نے جلا دی اِک نئی شمعِ یقیں اور سیہ پڑتے ہوئے دِل میں اُجالا کر دیا چل پڑِیں مدح و ثنائے مُصطفیٰ کی کشتیاں کیسی بارش نے مجھے صحرا سے دریا کر دیا! سخت کھاری ہو گیا تھا چشمہِ ہستی مِرا عشق کی اِک بوند نے اِس کو بھی میٹھا کر دیا دیکھتا رہتا ہوں اندھے پن میں بھی کُچھ قافلے دِید کی خواہش نے مجھ کو کیسا بینا کر دیا! ڈُھونڈ لائی میرے ٹُکڑوں کو مدینے کی ہوا اور مجھ بکھرے ہوئے کو پھر اکٹھا کر دیا

شاعر: سعید شارق — پیشکش: ندیم بخاری

‹ کلام کی فہرست پر واپس