ندیم بخاری

ندیم بخاری

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو

کچھ اتنا خوف کا مارا ہوا بھی پیار نہ ہو وہ اعتبار دلائے اور اعتبار نہ ہو ہوا خلاف ہو موجوں پہ اختیار نہ ہو یہ کیسی ضد ہے کہ دریا کسی سے پار نہ ہو میں گاؤں لوٹ رہا ہوں بہت دنوں کے بعد خدا کرے کہ اسے میرا انتظار نہ ہو ذرا سی بات پہ گھٹ گھٹ کے صبح کر دینا مری طرح بھی کوئی میرا غم گسار نہ ہو دکھی سماج میں آنسو بھرے زمانے میں اسے یہ کون بتائے کہ اشک بار نہ ہو گناہ گاروں پہ انگلی اٹھائے دیتے ہو وسیمؔ آج کہیں تم بھی سنگسار نہ ہو

شاعر: وسیم بریلوی — پیشکش: ندیم بخاری

‹ کلام کی فہرست پر واپس