پیش کردہ کلام
- 01 ان سے ہر وقت مری آنکھ لڑی رہتی ہے
- 02 محبتوں میں خسارہ عجیب لگتا ہے
- 03 آشنا ہو کر نظر نا آشنا کرنے لگے
- 04 ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
- 05 توں ساڈے ظرف نوں شاباش دے
- 06 اے چاند یہاں نہ نکلا کر
- 07 یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
- 08 ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
- 09 گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
- 10 وہ باتیں تری وہ فسانے ترے
- 11 دل ہے بڑی خوشی سے اسے پامال کر
- 12 اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
- 13 بوسۂ خال کی قیمت مِری جاں ٹھہری ہے