ثنا سوئٹ

ثنا سوئٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا

گلی گلی یوں محبت کے خواب بیچوں گا میں رکھ کے ریڑھی پہ تازہ گلاب بیچوں گا رہی جو زندگی میری تو شہرِ ظلمت میں چراغ بیچوں گا اور بے حساب بیچوں گا مرا اجالوں کا بیوپار بس چمک جائے فلک پہ بیٹھ کے میں آفتاب بیچوں گا کشید کر کے قلندر کی مست آنکھوں سے شرابیوں کو میں " حق کی شراب" بیچوں گا خرید کر میں جہنم سے جسم لیلیٰ کا جناب قیس کو دلکش عذاب بیچوں گا سنائی دے گا جسے میری روح کا نغمہ میں ایسے شخص کو دل کا رباب بیچوں گا لگا کے آگ میں رکھ دوں گا " فکرِ نفرت" کو کباڑیوں کو میں اس کا نصاب بیچوں گا میں گردہ بیچ کے چھپواؤں گا اسے واصف پھر اک "واہ" کے بدلے کتاب بیچوں گا جبار واصف

شاعر: نا معلوم — پیشکش: ثنا سوئٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس