ثنا سوئٹ

ثنا سوئٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کبھی یوں بھی تو ہو

کبھی یوں بھی تو ہو دریا کا ساحل ہو پورے چاند کی رات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو پریوں کی محفل ہو کوئی تمہاری بات ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ نرم ملائم ٹھنڈی ہوائیں جب گھر سے تمہارے گزریں تمہاری خوشبو چرائیں میرے گھر لے آئیں کبھی یوں بھی تو ہو سونی ہر منزل ہو کوئی نہ میرے ساتھ ہو اور تم آؤ کبھی یوں بھی تو ہو یہ بادل ایسا ٹوٹ کے برسے میرے دل کی طرح ملنے کو تمہارا دل بھی ترسے تم نکلو گھر سے کبھی یوں بھی تو ہو تنہائی ہو ،دل ہو بوندیں ہوں برسات ہو اور تم آؤ کبھی تو یوں بھی ہو

شاعر: جاوید اختر — پیشکش: ثنا سوئٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس