ثنا سوئٹ

ثنا سوئٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں

کچھ آنے والوں کی تاخیر سے تنگ آ گئے ہیں یہ گھر تعمیر در تعمیر سے تنگ آ گئے ہیں کئی عالم میں شور اٹھتا ہے اس زنجیر پا سے کئی عالم مری زنجیر سے تنگ آ گئے ہیں تو کیا اس راز سے سینہ چھڑا لیں سانس لے لیں ہم اس تصویر میں تصویر سے تنگ آ گئے ہیں انہیں فرشوں پہ تکیہ تھا مگر یہ فرش بھی تو ہمارے نالۂ شبگیر سے تنگ آ گئے ہیں مچانوں میں سے آنسو گر رہے ہیں خاک اوپر شکاری ہیں کہ جو تقدیر سے تنگ آ گئے ہیں عجب کیا وقت کا یہ آخری پھیرا ہو یاں پر گلی کوچے اب اس رہ گیر سے تنگ آ گئے ہیں وضاحت کرتے کرتے زندگی پر مرتے مرتے مسلسل ایک ہی تعزیر سے تنگ آ گئے ہیں

شاعر: شاہین عباس — پیشکش: ثنا سوئٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس