ثنا سوئٹ

ثنا سوئٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ

سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ برسوں بعد وہ دیکھ کے مجھ کو رہ جائے گا دنگ​ ماضی کا وہ لمحہ مجھ کو آج بھی خون رلائے اکھڑی اکھڑی باتیں اس کی، غیروں جیسے ڈھنگ​ تارہ بن کے دور افق پر کانپے، لرزے، ڈولے کچی ڈور سے اڑنے والی دیکھو ایک پتنگ​ دل کو تو پہلے ہی درد کی دیمک چاٹ گئی تھی روح کو بھی اب کھاتا جائے تنہائی کا زنگ​ انہی کے صدقے یا رب میری مشکل کر آسان میرے جیسے اور بھی ہیں جو دل کے ہاتھوں تنگ​ سب کچھ دے کر ہنس دی اور پھر کہنے لگی تقدیر کبھی نہ ہوگی پوری تیرے دل کی ایک امنگ​ شبنم کوئی جو تجھ سے ہارے، جیت پہ مان نہ کرنا جیت وہ ہوگی جب جیتو گی اپنے آپ سے جنگ​

شاعر: شبنم شکیل — پیشکش: ثنا سوئٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس