تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا
تیرے اکتاتے ہوئے لمس سے محسوس ہوا ! اب بچھڑنے کا ترے وقت ہوا چاہتا ہے ! اجنبیت ترے لہجے کی ! پتا دیتی ہے ! تُو خفا ہے تو نہیں ! ہونا خفا چاہتا ہے ! میری تہمت نہ لگے تجھ پہ ! سو میں دور ہوا ! مجھ سے بڑھ کر ترا اب کون، بھلا چاہتا ہے ! میں کہ خود کو بھی کوئی فیض کبھی دے نہ سکا ! اور تُو ہے کہ فقط مجھ سے صلہ چاہتا ہے ! تُو مجھے روز ملے ! ملتا رہے ! ملتا رہے ! میں کہوں یا نہ کہوں ! دل تو مرا چاہتا ہے ! تُو تو مجھ طالبِ غم شخص پہ حیران نہ ہو دل بڑا ہے ناں ! سو یہ غم بھی بڑا چاہتا ہے ! سب کہیں ہم نے تجھے چاہا ! تُو دیکھے مری سمت ! اور اشارے سے کہے ! سب سے جدا چاہتا ہے !
‹ کلام کی فہرست پر واپس