ثنا سوئٹ

ثنا سوئٹ

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو آنکھوں میں نمی ہنسی لبوں پر کیا حال ہے کیا دکھا رہے ہو بن جائیں گے زہر پیتے پیتے یہ اشک جو پیتے جا رہے ہو جن زخموں کو وقت بھر چلا ہے تم کیوں انہیں چھیڑے جا رہے ہو ریکھاؤں کا کھیل ہے مقدر ریکھاؤں سے مات کھا رہے ہو

شاعر: کیفی اعظمی — پیشکش: ثنا سوئٹ

‹ کلام کی فہرست پر واپس