زین چوہدری

زین چوہدری

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا

کہاں نبھ سکا بن کے انجان جانا جھجھکنا مرا ان کا پہچان جانا نہ لہراتے آنسو نہ چاہت ٹپکتی ادھر آنکھ ملنا ادھر جان جانا وہ آنکھیں کٹیلی ہیں چتون نکیلی یہ جانا بھی تو ہو کے انجان جانا جو ایسا ہو کیا اس کو سمجھائے کوئی سمجھنے سے پہلے مرا جان جانا وہ چاہے تو پھر رات کو دن بنا دے سکھا دے جو ان کو کہا مان جانا کھلے آرزو وہ جو تم سے تو سمجھو کہ اک اجنبی ایک انجان جانا

شاعر: آرزو لکھنوی — پیشکش: زین چوہدری

‹ کلام کی فہرست پر واپس