زاہد

زاہد

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے

خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے ! یہی روا ہے کہ اب تم ! بھُلا کے رکھ دو مجھے ! ہوس کے مارے ہوئے لب مجھے بلا رہے ہیں ! وہ آنکھ دیکھ رہی ہے !!!! چھپا کے رکھ دو مجھے ! تمہارے ہاتھ ہے ! مٹی مِری ! نصیب مِرا ! تمہاری مرضی ہے ! جو بھی بنا کے رکھ دو مجھے ! نجف کا دیپ ہوں میں ! بجھ نہیں سکوں گا کبھی ! تم آندھیوں میں بھی چاہے جلا کے رکھ دو مجھے ! میں اب گما ہوا ! خود کو کہاں کہاں ڈھونڈوں ؟ کہا تھا ! رکھنا جہاں ہے ! بتا کے رکھ دو مجھے ! میں چھُو کے چھوڑا ہوا، ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں ! تمہیں یہ کس نے کہا تھا اٹھا کے رکھ دو مجھے ! میں جل کے راکھ بھی ہو جاؤں ! مسئلہ نہیں ! پر ! میں کام آتا رہوں گا ! بُجھا کے رکھ دو مجھے ! تمہارے ہاتھ سے رکھے ہوئے کی خیریں ہوں ! جو پاس رکھنا نہیں دور جا کے رکھ دو مجھے ! تمہاری میز پہ رکھا ہوا میں خط ہی سہی ! اداس ہو کے پڑھو، مسکرا کے رکھ دو مجھے !

شاعر: زین شکیل — پیشکش: زاہد

‹ کلام کی فہرست پر واپس