سحرِ بیاں
ہوم
شعرا
مقررین
سپیسز
☰
ہوم
›
تمام مقررین
›
زاہد
زاہد
مقرر —
ایکس پروفائل
تعارف
کلام
پیش کردہ کلام
01
جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا
02
اعتراف
03
جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا
04
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے
05
خیال و خواب سے باہر اٹھا کے رکھ دو مجھے
06
تخیّل اور ہے، نادیدہ بینی اور ہوتی ہے
07
نہ آنکھیں ہی جھپکتا ہے نہ کوئی بات کرتا ہے