یادرفتگان

یادرفتگان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے

ہنس دئیے چمن میں گُل ، کس لئے خدا جانے کیا کہا بہاروں نے ، بات یہ صبا جانے وہ ہمیں الگ سمجھے ، وہ ہمیں جدا جانے ہم جنہیں زمانے میں، اپنا آشنا جانے اک چھُپی شئے کی، اصل کوئی کیا جانے دردِ دل کا قصہ ہے ، کون دوسرا جانے ہم تو آپ پر صدقے ، آپ ہم سے بیگانہ ابتدا میں یہ عالم ، انتہا خدا جانے میں تو ہوش کھو بیٹھا، دیکھ کر دمِ زینت آئینے پہ کیا گزری، اس کو آئینا جانے ہم نے ان سے جب پوچھا ، کیا ہوا ہمارا دل ہنس کے چپ رہے پہلے ، پھر کہا، خدا جانے تیرے در کے ٹکڑوں نے ، جس گدا کو پالا ہو وہ کسی کو کیا سمجھے ، وہ کسی کو کیا جانے آپ کیوں ہوئے مضطر ، آپ کیوں پریشاں ہیں ہم پہ جو گزرتی ہے ، آپ کی بلا جانے خلق کی نگاہوں میں ، میں برا سہی لیکن آپ کیوں برا سمجھے ، آپ کیوں برا جانے یہ شرف نصیر اس کی بارگہ میں کیا کم ہے وہ تری دعا سن لے ، تیرا مدعا جانے

شاعر: پیر نصیرالدین — پیشکش: یادرفتگان

‹ کلام کی فہرست پر واپس