یادرفتگان

یادرفتگان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا

ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کا بس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کا قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستیں کا ہوائے مے میں ہوں محو ایسا چمن میں گھر کر جو ابر آیا سیہ مستی میں میں یہ سمجھا جہاز ہے آب آتشیں کا امیرؔ دیکھا جو اس کا نقشہ تو نقشہ یوسف کا دل سے اترا کہ نقش ثانی کے آگے ہوتا فروغ کیا نقش اولیں کا

شاعر: امیر مینائی — پیشکش: یادرفتگان

‹ کلام کی فہرست پر واپس