زبیر قلزم

زبیر قلزم

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمال

بتائیں حسن اس کا کیا جمال ہی جمال حسین ہے بلا کا وہ کمال ہی کمال ہے غزال بھی کریں ہیں باتیں آپ کی جناب کی چلیں تو چال ایسی ہے دھمال ہی دھمال ہے میں کہا کہوں میں کیا لکھوں یہ ممکنات میں نہیں بیان حسن ان کا تو خیال ہی خیال ہے نگاہیں تیر تیر ہیں تو آنکھیں جال جال ہیں کرو یقین میرا بچنا تو محال ہی محال ہے یہ چاندنی شبوں کی اب مجھے طلب نہیں رہی وہ چہرہ ایسا دوستا اجال ہی اجال ہے وہ مثل معجزات بھی وہ حسن کائنات بھی خدا کی وہ خدائی کی مثال ہی مثال ہے نصیب کی یہ بات ہے وہ میرا بن سکا نہیں زبیر اس نصیب پر ملال ہی ملال ہے

شاعر: زبیر قلزم — پیشکش: زبیر قلزم

‹ کلام کی فہرست پر واپس