نور مائیر

نور مائیر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی

دل سے باہر ہیں خریدار ابھی سامنے ہے بھرا بازار ابھی آدمی ساتھ نہیں دے سکتا تیز ہے سائے کی رفتار ابھی یہ کڑی دھوپ یہ رنگوں کی پھوار ہے ترا شہر پر اسرار ابھی دل کو یوں تھام رکھا ہے جیسے بیٹھ جائے گی یہ دیوار ابھی آنچ آتی ہے صبا سے باقیؔ کیا کوئی گل ہے شرربار ابھی

شاعر: باقی صدیقی — پیشکش: نور مائیر

‹ کلام کی فہرست پر واپس