پیش کردہ کلام
- 01 میں چاہتا ہوں کوٸی دشت میں جلاے چراغ
- 02 عشق پھرتا ہے خوشی اپنی چھپانے کے لیے
- 03 میری ہر سانس مری خوشیوں کا ساماں ہوتی
- 04 یار یہ لوگ تو کہہ دیتے ہیں سب سے باتیں
- 05 پردے پردے میں بہت مجھ پہ ترے وار چلے
- 06 جھوٹی دنیا جھوٹی مایا
- 07 تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے
- 08 گلے لگائیں بلائیں لیں تم کو پیار کریں
- 09 گل کوئی عشق دی کر، پیار دا قصہ سُنا
- 10 انساناں دا کال پیا اے دسدے ہن انسان تے نہیں
- 11 لرز لرز کے نہ ٹوٹیں تو وہ ستارے کیا
- 12 در امکاں سے گزر کر سر منظر آ کر
- 13 پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ
- 14 پہاڑ لوگ تھے , غداریوں پہ وارے گئے
- 15 اک بے وفا کو درد کا درماں بنا لیا
- 16 یا تو سورج جھوٹ ہے یا پھر یہ سایا جھوٹ ہے
- 17 ستارہ لے گیا ہے میرا آسمان سے کون
- 18 یہ سلسلے بھی رفاقت کے کچھ عجیب سے ہیں
- 19 یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب
- 20 کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو
- 21 ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے
- 22 غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا
- 23 عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
- 24 حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی
- 25 جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے
- 26 دیوانے کی جنت
- 27 ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے
- 28 تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو
- 29 صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری
- 30 بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے
- 31 ورھیاں خود نوں آپے مل نہ پایا میں
- 32 کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
- 33 پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم
- 34 آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
- 35 گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
- 36 بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
- 37 عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
- 38 شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
- 39 ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
- 40 ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
- 41 کنڑک
- 42 الجھن کی کہانی
- 43 بغاوت نفس
- 44 اذیت پرست
- 45 سلسلے
- 46 نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی
- 47 اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیا
- 48 وَگناں پیا سواں ڈھولا
- 49 دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
- 50 کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی
- 51 جنون عشق کی رسم عجیب کیا کہنا
- 52 ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
- 53 ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
- 54 اساں باہُو دی بولی بولدے سانوں پیر فرید دی جاگ
- 55 یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
- 56 حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
- 57 درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے
- 58 کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں
- 59 خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں
- 60 خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا
- 61 بلبل اور گلاب
- 62 آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا
- 63 زندگانی سراب کی سی طرح
- 64 کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں
- 65 مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
- 66 سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
- 67 کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
- 68 ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
- 69 سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے
- 70 اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے
- 71 سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں
- 72 جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
- 73 چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا
- 74 بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا
- 75 لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے
- 76 مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلوم
- 77 ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی
- 78 دِھی دا وَین
- 79 کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
- 80 اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
- 81 تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
- 82 یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
- 83 ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
- 84 ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ
- 85 چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو
- 86 سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں
- 87 کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا
- 88 خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
- 89 آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ
- 90 عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے
- 91 ٹھَڈھی مِٹھی چھاں دا لاہناں لاہندا نہیں
- 92 تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
- 93 اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
- 94 ہونی دے حیلے
- 95 آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
- 96 تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
- 97 بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
- 98 میں نے لکھ دی میکدے کے نام تیرے بعد
- 99 وہ لڑکی
- 100 رب کرے وسیلہ کوئی تے دل دا درد تھم جاوے
- 101 ہاتھ میں تیرا ہاتھ اور سنگ زمانہ تھا
- 102 کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
- 103 اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے
- 104 دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
- 105 مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
- 106 دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا
- 107 یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
- 108 ایک لڑکی سی
- 109 نذر دل
- 110 رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا
- 111 اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
- 112 نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں
- 113 آتش عشق جی جلاتی ہے
- 114 وفا کیسی؟
- 115 آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
- 116 مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
- 117 دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
- 118 غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر
- 119 ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا
- 120 سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا
- 121 سُن سانسوں کے سلطان پیا
- 122 یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
- 123 رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
- 124 ہر شے مسافر ہر چیز راہی
- 125 گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
- 126 وہ فراق اور وہ وصال کہاں
- 127 پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
- 128 رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
- 129 اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی
- 130 بارہواں کھلاڑی
- 131 کوچ
- 132 زمانے بھر کو اداس کر کے
- 133 دیوانہ رقیب
- 134 میرا محبوب آج میرے گھر آ گیا اے
- 135 گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
- 136 رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
- 137 ایمان
- 138 دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
- 139 دھی کمی دی
- 140 ماں بولی
- 141 سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
- 142 میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
- 143 کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
- 144 تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
- 145 ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
- 146 عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو
- 147 وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
- 148 آہ سن کے جلے ہوئے دل کی
- 149 جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو
- 150 زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
- 151 میں بولا کھو دیا مجھ کو
- 152 آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے
- 153 تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال
- 154 مجھے تلاش کرو
- 155 اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی