search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
نور مائیر
مقرر / سپیکر
تعارف
انتخابِ کلام
یہ تسلی ہے کہ ہیں ناشاد سب
(13 فروری 2026)
کرے گا کیا کوئی میرے گلے سڑے آنسو
(12 فروری 2026)
ہم تمہیں دوسرے لوگوں سے تو اچھے پڑتے
(12 فروری 2026)
غم جہاں سے میں اکتا گیا تو کیا ہوگا
(12 فروری 2026)
عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
(11 فروری 2026)
حویلیوں میں مری تربیت نہیں ہوتی
(10 فروری 2026)
جہاں دریا کہیں اپنے کنارے چھوڑ دیتا ہے
(10 فروری 2026)
دیوانے کی جنت
(10 فروری 2026)
ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جانانہ مجھے
(08 فروری 2026)
تم اک نگاہ کبھی دل پہ ڈال کر دیکھو
(08 فروری 2026)
صُبح کا سیل تھما، شام کی ندّی اُتری
(05 فروری 2026)
بہت پیاسا ہے پیڑ اور پابرہنہ چل رہا ہے
(05 فروری 2026)
ورھیاں خود نوں آپے مل نہ پایا میں
(05 فروری 2026)
کوئی میداں نہ جیتا عشق کا فرہاد کے آگے
(04 فروری 2026)
پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم
(04 فروری 2026)
آج ذرا فرصت پائی تھی آج اسے پھر یاد کیا
(02 فروری 2026)
گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
(02 فروری 2026)
بہار باغ ہو مینا ہو جام صہبا ہو
(01 فروری 2026)
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
(01 فروری 2026)
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
(01 فروری 2026)
ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ
(31 جنوری 2026)
ہم ہیں متاع کوچہ و بازار کی طرح
(31 جنوری 2026)
کنڑک
(30 جنوری 2026)
الجھن کی کہانی
(29 جنوری 2026)
بغاوت نفس
(29 جنوری 2026)
اذیت پرست
(27 جنوری 2026)
سلسلے
(27 جنوری 2026)
نگاہ شرمگیں سے جب محبت بٹ رہی ہوگی
(26 جنوری 2026)
اک بے وفا کو خوگر جور و جفا کیا
(26 جنوری 2026)
وَگناں پیا سواں ڈھولا
(25 جنوری 2026)
دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
(25 جنوری 2026)
کیا سوچتے ہو اب پھولوں کی رت بیت گئی رت بیت گئی
(24 جنوری 2026)
جنون عشق کی رسم عجیب کیا کہنا
(24 جنوری 2026)
ایک تیرا غم جس کو راہ معتبر جانیں
(23 جنوری 2026)
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
(23 جنوری 2026)
اساں باہُو دی بولی بولدے سانوں پیر فرید دی جاگ
(23 جنوری 2026)
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
(22 جنوری 2026)
حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
(22 جنوری 2026)
درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے
(21 جنوری 2026)
کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں
(21 جنوری 2026)
خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں
(20 جنوری 2026)
خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا
(20 جنوری 2026)
بلبل اور گلاب
(19 جنوری 2026)
آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیا
(19 جنوری 2026)
زندگانی سراب کی سی طرح
(17 جنوری 2026)
کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں
(17 جنوری 2026)
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
(15 جنوری 2026)
سب کو دنیا کی ہوس خوار لیے پھرتی ہے
(15 جنوری 2026)
کی ہے کوئی حسین خطا ہر خطا کے ساتھ
(14 جنوری 2026)
ہاتھ آ کر لگا گیا کوئی
(14 جنوری 2026)
سلام اس پر اگر ایسا کوئی فن کار ہو جائے
(13 جنوری 2026)
اعتکاف میں زاہد منہ چھپائے بیٹھا ہے
(13 جنوری 2026)
سورج آنکھیں کھول رہا ہے سوکھے ہوئے درختوں میں
(12 جنوری 2026)
جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو
(11 جنوری 2026)
چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا
(11 جنوری 2026)
بے سبب لوگ بدلتے نہیں مسکن اپنا
(09 جنوری 2026)
لب اگر یوں سیے نہیں ہوتے
(09 جنوری 2026)
مکیں ہوں اور حدود مکاں نہیں معلوم
(08 جنوری 2026)
ذہن پر چھا گئی موت کی بے حسی نیند آنے لگی
(08 جنوری 2026)
دِھی دا وَین
(07 جنوری 2026)
کیوں کسی رہ رو سے پوچھوں اپنی منزل کا پتا
(06 جنوری 2026)
اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے
(06 جنوری 2026)
تیرکھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
(05 جنوری 2026)
یہ کلیجا کہاں سے لائیں ہم
(05 جنوری 2026)
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
(02 جنوری 2026)
ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ
(01 جنوری 2026)
چاہتا ہوں کہ نظر نور سے مانوس نہ ہو
(01 جنوری 2026)
سائیں میرے کھیتوں پر بھی رت ہریالی بھیجو ناں
(30 دسمبر 2025)
کیوں دل کو دھڑکنا یاد آیا
(30 دسمبر 2025)
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
(29 دسمبر 2025)
آنکھوں سے کچھ چبھن بھی دل بے قرار کھینچ
(28 دسمبر 2025)
عکس منظر میں پلٹنے کے لیے ہوتا ہے
(28 دسمبر 2025)
ٹھَڈھی مِٹھی چھاں دا لاہناں لاہندا نہیں
(27 دسمبر 2025)
تازہ محبتوں کا نشہ جسم و جاں میں ہے
(26 دسمبر 2025)
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے
(26 دسمبر 2025)
ہونی دے حیلے
(26 دسمبر 2025)
آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
(26 دسمبر 2025)
تتلیاں جگنو سبھی ہوں گے مگر دیکھے گا کون
(25 دسمبر 2025)
بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
(25 دسمبر 2025)
کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
(18 دسمبر 2025)
اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے
(18 دسمبر 2025)
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی
(17 دسمبر 2025)
مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے
(17 دسمبر 2025)
دل کو ویرانہ کہو گے مجھے معلوم نہ تھا
(16 دسمبر 2025)
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
(15 دسمبر 2025)
ایک لڑکی سی
(15 دسمبر 2025)
نذر دل
(14 دسمبر 2025)
رات کے ہاتھوں میں چاندنی کا سبو تھا
(14 دسمبر 2025)
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
(12 دسمبر 2025)
نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں
(12 دسمبر 2025)
آتش عشق جی جلاتی ہے
(11 دسمبر 2025)
وفا کیسی؟
(10 دسمبر 2025)
آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
(09 دسمبر 2025)
مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں
(08 دسمبر 2025)
دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گا
(08 دسمبر 2025)
غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کر
(08 دسمبر 2025)
ہجوم بے کسی کی وجہ لطف بیکراں پایا
(07 دسمبر 2025)
سرگرمِ ناز آپ کی شانِ جفا ہے کیا
(07 دسمبر 2025)
سُن سانسوں کے سلطان پیا
(06 دسمبر 2025)
یہاں سب سے الگ سب سے جدا ہونا تھا مجھ کو
(05 دسمبر 2025)
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
(04 دسمبر 2025)
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
(03 دسمبر 2025)
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
(03 دسمبر 2025)
وہ فراق اور وہ وصال کہاں
(02 دسمبر 2025)
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
(02 دسمبر 2025)
رُتوں کا زہر چکھوں محبس فضا میں رہوں
(01 دسمبر 2025)
اندر سےکوئی گھنگھرو چھنکے کوئی گیت سنیں تو لکھیں بھی
(01 دسمبر 2025)
بارہواں کھلاڑی
(30 نومبر 2025)
کوچ
(30 نومبر 2025)
زمانے بھر کو اداس کر کے
(30 نومبر 2025)
دیوانہ رقیب
(30 نومبر 2025)
میرا محبوب آج میرے گھر آ گیا اے
(29 نومبر 2025)
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
(28 نومبر 2025)
رُو برو وہ ہے عبادت کر رہا ہوں
(28 نومبر 2025)
ایمان
(27 نومبر 2025)
دل کی چوکھٹ پہ جو اک دیپ جلا رکھا ہے
(27 نومبر 2025)
دھی کمی دی
(26 نومبر 2025)
ماں بولی
(26 نومبر 2025)
سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
(25 نومبر 2025)
میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
(24 نومبر 2025)
کہیں تم اپنی قسمت کا لکھا تبدیل کر لیتے
(24 نومبر 2025)
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا
(23 نومبر 2025)
ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے
(23 نومبر 2025)
عطا ہم کو بھی اک حسیں جام ہو
(23 نومبر 2025)
وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
(22 نومبر 2025)
آہ سن کے جلے ہوئے دل کی
(22 نومبر 2025)
جُنوں کے مرحلے تم نے دکھا دئیے مجھ کو
(21 نومبر 2025)
زخم کھا کھا کے سنبھلنا کوئی ہم سے سیکھے
(21 نومبر 2025)
میں بولا کھو دیا مجھ کو
(21 نومبر 2025)
آسماں پر ابر پارے کا سفر میرے لیے
(20 نومبر 2025)
تمہیں خبر بھی نہ ملی اور ہم شکستہ حال
(20 نومبر 2025)
مجھے تلاش کرو
(19 نومبر 2025)
اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
(19 نومبر 2025)