نور مائیر

نور مائیر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہر شے مسافر ہر چیز راہی

ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی یہ بے سوادی یہ کم نگاہی دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے کردار بے سوز گفتار واہی

شاعر: علامہ اقبال — پیشکش: نور مائیر

‹ کلام کی فہرست پر واپس