نور مائیر

نور مائیر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

میں نے لکھ دی میکدے کے نام تیرے بعد

میں نے لکھ دی مہکدے کے نام تیرے بعد یہ جو تھی اکیلی میری شام تیرے بعد میں لکھتا نہیں کچھ لکھوا دیا جاتا ہے اب کیا کروں جو ہو جائے الہام تیرے بعد تو جانتا ہے وقت کٹتا ہی نہیں مجھ سے میں تھک گیا ہوں کر کر کے کام تیرے بعد حضرت زاہد لے جا اس کو دور مجھ سے کہ لگ جاتا ہے لبوں سے کم بخت جام تیرے بعد ایک سیلاب سا گزرتا ہے روز میرے کمرے سے لذراتے رہتے ہیں اس کے در و بام تیرے بعد نہ جانے کس نگر میں گم ہو گئے ہو تم قمر چراغ شہر کے بجھنے لگے ہیں سر شام تیرے بعد

شاعر: راجہ اکرام قمر — پیشکش: نور مائیر

‹ کلام کی فہرست پر واپس