نور مائیر

نور مائیر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے

مری آنکھوں میں دریا جھولتا ہے یہ پانی اب کنارہ ڈھونڈتا ہے یہ پانی ریت کی تہہ سے گزر کر تعلق ہے تو رستہ ڈھونڈتا ہے تعلق کو نہ سمجھو جاودانی یہ آئینہ ہوا سے ٹوٹتا ہے ہماری پیاس رخصت چاہتی ہے پیالہ ہاتھ سے اب چھوٹتا ہے

شاعر: کشور ناہید — پیشکش: نور مائیر

‹ کلام کی فہرست پر واپس