نور مائیر

نور مائیر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ

پوشیدہ کیوں ہے طور پہ جلوہ دکھا کے دیکھ اے دوست میری تاب نظر آزما کے دیکھ پھولوں کی تازگی ہی نہیں دیکھنے کی چیز کانٹوں کی سمت بھی تو نگاہیں اٹھا کے دیکھ لیتا نہیں کسی کا پس مرگ کوئی نام دنیا کو دیکھنا ہے تو دنیا سے جا کے دیکھ دل میں ہمارے درد زمانے کا ہے نہاں پیوست دل میں سیکڑوں پیکاں جفا کے دیکھ جو بادہ خوار غم ہیں انہیں بھی کبھی کبھی ساقی شراب حسن کے ساغر پلا کے دیکھ بن جائے گا کبھی نہ کبھی درد ہی دوا اسعدؔ کے دل میں درد کی شدت بڑھا کے دیکھ

شاعر: اسعد بدایونی — پیشکش: نور مائیر

‹ کلام کی فہرست پر واپس