نور مائیر

نور مائیر

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی

رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی واعظ کی بات رہ گئی ساقی کی چل گئی طیار تھے نماز پہ ہم سن کے ذکر حور جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی مچھلی نے ڈھیل پائی ہے لقمے پہ شاد ہے صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی چمکا ترا جمال جو محفل میں وقت شام پروانہ بیقرار ہوا شمع جل گئی عقبیٰ کی باز پرس کا جاتا رہا خیال دنیا کی لذتوں میں طبیعت بہل گئی حسرت بہت ترقیٔ دختر کی تھی انہیں پردہ جو اٹھ گیا تو وہ آخر نکل گئی

شاعر: اکبر اللہ آبادی — پیشکش: نور مائیر

‹ کلام کی فہرست پر واپس