امل خان

امل خان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا

اب اس دل کو کسی سے کیا ہو گا ہر اک رشتہ ہی آخر تنہا ہو گا ہم نے چاہا تھا جسے نامِ وفا اس کے حصے میں فقط اپنی جفا ہو گا خواب ٹوٹے تو یہی بات کھلی جاگنے کا بھی جدا اک مزا ہو گا تو نے اوڑھی ہے زمانے کی قبا میرا سچ پھر بھی برہنا ہو گا خامشی اوڑھ کے جیتا ہوں میں یہ بھی اک قرضِ زمانہ ہو گا ہجر کی راکھ میں قمرؔ نے لکھا جیت کا نام ہی دراصل ہارا ہو گا

شاعر: راجہ اکرام قمر — پیشکش: امل خان

‹ کلام کی فہرست پر واپس