امل خان

امل خان

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

سنا ہے

سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتا درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو کسی لکڑی کے تختے پر گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہے خداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر! مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر! کوئی دستور نافذ کر

شاعر: زہرا نگاہ — پیشکش: امل خان

‹ کلام کی فہرست پر واپس