پیش کردہ کلام
- 01 ہے ازل کی اس غلط بخشی پہ حیرانی مجھے
- 02 بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز
- 03 جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
- 04 تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں
- 05 سلگ رہا ہوں میں دھیرے دھیرے، مگر کسی پر عیاں نہیں ہے
- 06 یوں تو نہیں کہ دل میں اب کوئی نئی دعا نہیں
- 07 عشق، محبت، پیار وے اَڑیا
- 08 حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
- 09 اندھیرے چھوڑ کر مَیں جب جا رہا تھا اُجالوں میں
- 10 اب جو لوٹے ہو اتنے سالوں میں
- 11 اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
- 12 دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
- 13 لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
- 14 سوال چھوڑ کہ حالت یہ کیوں بنائی ہے