ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے
ایک صحرا میں بو دیا ہے مجھے میرے لوگوں نے کھو دیا ہے مجھے اس لئے بھی مجھے عزیز ہے تو کم سے کم زخم تو دیا ہے مجھے اب کے اشکوں میں تیرا غم بھی گیا اب کی بارش نے دھو دیا ہے مجھے دھڑکنیں اور کسی کے واسطے ہیں تو یہ دل نام کو دیا ہے مجھے آج تو میرا ہنسنا بنتا ہے آج تو وہ بھی رو دیا ہے مجھے
‹ کلام کی فہرست پر واپس