ملک

ملک

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

فریب جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے

فریبِ جبہ و دستار ختم ہونے کو ہے لگا ہواہے جو دربار، ختم ہونے کو ہے​ ​کہانی کار نے اپنے لیے لکھا ہے جسے کہانی میں وہی کِردار ختم ہونے کو ہے​ سمجھ رہے ہوکہ تم سے ہے گرمئ بازار سو اب یہ گرمئ بازار ختم ہونے کو ہے​ مسیحا، کیسا تجھے لگ رہا ہے، کچھ تو بتا کہ تیرے سامنے بیمار ختم ہونے کو ہے​ برہنہ ہوتی چلی جا رہی ہے یہ دُنیا کہیں گلی، کہیں دیوار ختم ہونے کو ہے​ یہ کیا ہوا تجھے تسلیم کرنے والوں میں سُنا ہے، جراتِ اظہار ختم ہونے کو ہے​ جو مجھ پہ بیت گئی وہ خبر نہیں مِلتی کہ اب تو سارا ہی اخبار ختم ہونے کو ہے​ اب اس کے بعد نئی زندگی کا ہے آغاز یہ زندگی تو مرے یار ختم ہونے کو ہے​ سلیم کثرتِ اشیا کی گرد میں آخر غرُورِ درہم و دینار ختم ہونے کو ہے​

شاعر: سلیم کوثر — پیشکش: ملک

‹ کلام کی فہرست پر واپس