ملک

ملک

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں

کہیں کرتے نہیں اظہار، چپ ہیں ہمیں تو حکم ہے سرکار، چپ ہیں کہانی کچھ بتانا چاہتی ہے مگر اس کے سبھی کردار، چپ ہیں بہت ہے بارش سنگ ملامت مگر ہم صورت کہسار، چپ ہیں ابھی تک ہے بہت محفوظ قاتل کہ مقتل کے درودیوار، چپ ہیں پتہ رہزن کا خلقت پوچھتی ہے مگر بستی کے پہریدار، چپ ہیں وہی موسم، وہی زنجیر شب ہے مگر یہ لوگ کیوں اس بار چپ ہیں

شاعر: نوشی گیلانی — پیشکش: ملک

‹ کلام کی فہرست پر واپس