ایم سعید

ایم سعید

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں ترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سے جو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کر نئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں مرے وجود میں آباد ہیں کئی جنگل جہاں میں ہو کی صدائیں لگاتا رہتا ہوں مرے خدا یہی مصروفیت بہت ہے مجھے ترے چراغ جلاتا بجھاتا رہتا ہوں

شاعر: اسعد بدایونی — پیشکش: ایم سعید

‹ کلام کی فہرست پر واپس