پیش کردہ کلام
- 01 آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے
- 02 آپ کی یاد عمر بھر آئی
- 03 سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں
- 04 خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے
- 05 روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا
- 06 تم یاد مجھے آ جاتے ہو
- 07 اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں
- 08 آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے
- 09 دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے
- 10 کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
- 11 بستی کی لڑکیوں کے نام
- 12 گجرات کی رات
- 13 میرے غم کو جو اپنا بتاتے رہے
- 14 محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے
- 15 سنے کون قصہ درد دل میرا غم گسار چلا گیا
- 16 ٹھان لی میں نے بھی ساقی یہیں مر جانے کی
- 17 پُر نہیں ہے مِری جگہ مجھ سے
- 18 جامِ ہَستی خُوشی خُوشی بھرتا
- 19 کب سابقہ غُلام سے خطرہ ہے شاہ کو!
- 20 گریباں پھاڑ ڈالے رشک سے ہر گل بدن اپنا
- 21 ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے
- 22 اس گل سے کچھ حجاب ہمیں درمیاں نہ تھا
- 23 تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
- 24 وہ خوش لباس بھی خوش دل بھی خوش ادا بھی ہے
- 25 دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو
- 26 بے وجہ نئیں ہے آئنہ ہر بار دیکھنا
- 27 دور سے آنکھیں دکھاتی ہے نئی دنیا مجھے
- 28 جلتے ہیں جس کے لئے تیری آنکھوں کے دیے
- 29 ایک تضاد
- 30 جنگ کا انجام
- 31 دکھاتے آئينہ ہو اور مجھ ميں جان نہيں
- 32 میرا دوست ابو الہول
- 33 متاع رائیگاں
- 34 پھر ان کو عرض غم پہ ہنسی آ رہی ہے آج
- 35 میں نے پائی نہیں جینے کی سزا کون سے دن
- 36 وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
- 37 اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
- 38 کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
- 39 جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیر دل
- 40 ہو کے اس چشم مے پرست سے مست
- 41 ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا
- 42 چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا
- 43 غیرت مہر رشک ماہ ہو تم
- 44 دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے
- 45 شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا
- 46 سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے
- 47 زندان کائنات میں محصور کر دیا
- 48 ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم
- 49 ہر روز نیا حشر سر راہ گزر تھا
- 50 کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
- 51 عشق ہے اختیار کا دشمن
- 52 آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے
- 53 لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
- 54 رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
- 55 یہ دنیا ، یہ محفل
- 56 پتھر کے خدا وہاں بھی پائے
- 57 ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
- 58 وہ نہ میرا ہی تھا محسن نہ وہ اپنا نکلا
- 59 سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا
- 60 عیاں ہے بے رخی چتون سے اور غصہ نگاہوں سے
- 61 اس کی حسرت ہے جسے دل سے مٹا بھی نہ سکوں
- 62 دل کو طرز نگۂ یار جتاتے آئے
- 63 ہم انہیں وہ ہمیں بھلا بیٹھے
- 64 ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے
- 65 کچھ سفینے ہیں جو غرقاب اکٹھے ہوں گے
- 66 دیواروں پر سائے سے لہراتے تھے
- 67 شہر پر رات کا شباب اترے
- 68 کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!
- 69 دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
- 70 بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
- 71 آزرؔ رہا ہے تیشہ مرے خاندان میں
- 72 بخشا ہے اس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے
- 73 ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
- 74 یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
- 75 خیال یکتا میں خواب اتنے
- 76 رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
- 77 وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
- 78 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
- 79 جس سے دل لگاؤ رولایا نہیں کرتے
- 80 چہرہ تو ہوتا ہے ایک اخبار کی طرح
- 81 غسل آخر نکھر گیا ہوں میں
- 82 ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا
- 83 شعلہ ہوں، بھڑکنے کی گزارش نہيں کرتا
- 84 ہم کہ مغلوب گماں تھے پہلے
- 85 کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے
- 86 ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
- 87 کچھ لوگ تمہیں سمجھائیں گے
- 88 حسن کو بے حجاب ہونا تھا
- 89 برباد تمنا پہ عتاب اور زیادہ
- 90 چھپ نہ سکے گی دل کی دھڑکن
- 91 جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
- 92 تیرے چہرے کی طرح اور مرے سینے کی طرح
- 93 فگار پاؤں مرے،اشک نارسا میرے
- 94 گیت لکھے بھی تو ایسے کہ سنائے نہ گئے
- 95 گر دعا بھی کوئی چیز ہے تو دعا کے حوالے کیا
- 96 پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے
- 97 بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں
- 98 اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے
- 99 خامشی کو ٹٹولتا ہوا تُو
- 100 کس نے آخر من کا دیپ بجھایا ہے
- 101 نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
- 102 شمار ہونا ہے یا بے شمار ہونا ہے
- 103 شکوہ
- 104 عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- 105 درد منت کش دوا نہ ہوا
- 106 جیسا ہوں ویسا کیوں ہوں سمجھا سکتا تھا میں
- 107 اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں
- 108 صدمے جھیلوں جان پہ کھیلوں اس سے مجھے انکار نہیں ہے
- 109 ترے فراق کے لمحے شمار کرتے ہوئے
- 110 تم میرے درد بھی، غم بھی، مرے آلام بھی تم
- 111 ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا