ایم سعید

ایم سعید

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے

پہلو میں درد عشق کی دنیا لیے ہوئے بیٹھا ہوں زندگی کا سہارا لیے ہوئے دل ہے تجلیٔ رخ زیبا لیے ہوئے آغوش میں ہے چاند کو دریا لیے ہوئے پہنچے تو دل میں جوش تمنا لیے ہوئے لوٹے مگر لٹی ہوئی دنیا لیے ہوئے میں جی رہا ہوں غم کدۂ روزگار میں تیری محبتوں کا سہارا لیے ہوئے اٹھتا ہوں بزم حسن سے لغزش بپا شکیلؔ بہکی سی اک نظر کا سہارا لیے ہوئے

شاعر: شکیل بدیوانی — پیشکش: ایم سعید

‹ کلام کی فہرست پر واپس