بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی وہ چاندنی وہ گھر وہ ہوا یاد آ گئی جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آ گئی تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی اب لا علاج ہے تو دوا یاد آ گئی وہ شکل دُور رہ کے بھی ہے کتنی مہرباں جب دل نے اُس کو یاد کیا یاد آ گئی باصرِؔ کسی سے عہدِ وفا کر رہے تھے آج ناگاہ پھر کسی کی وفا یاد آ گئی
‹ کلام کی فہرست پر واپس