ایم سعید

ایم سعید

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے

رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے یہ دل کہ تیرے بعد ، سنبھلتا بھی نہیں ھے اک عمر سے ھم اُس کی تمنا میں ھیں بے خواب وہ چاند جو آنگن میں ، اُترتا بھی نہیں ھے پھر دل میں تیری یاد کے ، منظر ھیں فروزاں ایسے میں کوئی ، دیکھنے والا بھی نہیں ھے ھمراہ بھی خواھش سے ، نہیں رھتا ھمارے اور بامِ رفاقت سے ، اُترتا بھی نہیں ھے اِس عمر کے صحرا سے ، تری یاد کا بادل ٹلتا بھی نہیں ، اور برستا بھی نہیں ھے

شاعر: نوشی گیلانی — پیشکش: ایم سعید

‹ کلام کی فہرست پر واپس