پیش کردہ کلام
- 01 ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے
- 02 دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ
- 03 مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا
- 04 دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ
- 05 فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں
- 06 کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
- 07 قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں
- 08 ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا
- 09 دل کو تسکین یار لے ڈوبی
- 10 بچھڑ گئے تو یہ دل عمر بھر لگے گا نہیں
- 11 مو قلم توڑ چکا آخری تصویر کے بعد
- 12 بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
- 13 مل جائے مے تو سجدۂ شکرانہ چاہیے
- 14 مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں