پیش کردہ کلام
- 01 ہم گنہ گار عورتیں ہیں
- 02 خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائے
- 03 کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے
- 04 سینے میں ان کے جلوے چھپائے ہوئے تو ہیں
- 05 جدھر دیکھتی ہوں اُدھر تم ہی تم ہو
- 06 رقاصۂ حیات سے
- 07 دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہے
- 08 تجھ کو پاسِ وفا ذرا نہ ہوا
- 09 گم گشتہ کسی خواب کے منظر سے نکل کر
- 10 کیا آج مرا کیا کل سائیاں
- 11 دل سے نکلی ہے یہ صدا، مرشد
- 12 زندہ بھی خلق میں ہوں مرا بھی ہوا ہوں میں