پیش کردہ کلام
- 01 زندگانی حسین ہے تو سہی
- 02 محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو
- 03 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے
- 04 اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں
- 05 مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں
- 06 منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی
- 07 تن دا ماس کھوائی رکھنا سوکھا نہیں
- 08 تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں
- 09 یہ جو ہم عالمِ بیداری میں کھل جاتے ہیں
- 10 مجھ کو دنیا کی تمنا ہے نہ دیں کا لالچ
- 11 غم میں بھی مسکرا رہا ہوں میں
- 12 جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو
- 13 یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوں
- 14 اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے
- 15 نہ چھیڑ زاہد ناداں شراب پینے دے
- 16 تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے
- 17 حقیقت اور ہی کچھ ہے مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
- 18 محفل کا یہ انداز کہاں وہ ہیں کہاں میں
- 19 دن جنوں کے آن پہنچے ہوشیاراں الوداع
- 20 نہیں ہوں منکر مۓ ، اہل مے خانے سے کہہ دیجو
- 21 سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
- 22 زمین دی ہے تو تھوڑا سا آسمان بھی دے
- 23 خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
- 24 آہ جاں سوز کی محرومی تاثیر نہ دیکھ
- 25 گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا
- 26 باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو
- 27 تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
- 28 گہرے سروں میں عرض نوائے حیات کر
- 29 بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے
- 30 پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
- 31 زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
- 32 اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں
- 33 یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دی
- 34 نقش پانی پہ بنایا کیوں تھا
- 35 ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے
- 36 میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو
- 37 وہ دے گیا ہے ہمیں انتظار کا موسم
- 38 ڈوبنے والے نے جب شور مچانا چاہا
- 39 مقتل وقت میں خاموش گواہی کی طرح