نایاب

نایاب

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی

کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی ہم ایسے ہو گئے کیسے نظیر پتھر کی تو چپ کیا ترے بارے میں پوچھ کر اس کو بتا رہا تھا فضیلت فقیر پتھر کی بدلتے موسموں کا ہم پہ کچھ اثر ہی نہیں ہماری روح ہے جیسے اسیر پتھر کی ہمارے دور کا ہر رانجھا بت پرست ہے رازؔ ہمارے دور کی ہر ایک ہیر پتھر کی

شاعر: اسماعیل راز — پیشکش: نایاب

‹ کلام کی فہرست پر واپس