پیش کردہ کلام
- 01 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی
- 02 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ
- 03 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
- 04 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
- 05 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔
- 06 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے
- 07 نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری
- 08 ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے
- 09 ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا
- 10 مری زیست پر مسرت کبھی تھی نہ ہے نہ ہوگی
- 11 منظر سمیٹے، خواب سنبھالے، نمی بھری
- 12 کہتا ہے کوئی ہو کے بہَم: ایک قدَم اور!
- 13 کر سکے کیا عقل میرے غم کے جانے کا علاج
- 14 شب ہجراں کی وحشت کو تو اے بیداد کیا جانے
- 15 چاہت ندیا چاہت ساگر
- 16 کبھی شام ڈھلے تو میرے دل میں آ جانا
- 17 چھلکائیے جام
- 18 تو نے او رنگیلے کیسا جادو کیا
- 19 اپنے تن دی خبر نہیں سجن دی خبر لوےکون؟
- 20 لوگو اے لوگو
- 21 جمود
- 22 ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے
- 23 ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے
- 24 ترا خیال فروزاں ہے دیکھیے کیا ہو
- 25 چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی
- 26 ویسے تو ہم سفر ہیں سبھی راستوں میں لوگ
- 27 پھر یوں ہوا کے ساتھ تیرا چھوڑنا پڑا
- 28 یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
- 29 چلو دلدار چلو
- 30 جو صدا گونجتی تھی کانوں میں
- 31 چاند
- 32 تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے
- 33 چاہت میں کیا دنیا داری عشق میں کیسی مجبوری
- 34 اے وطن کے سجیلے جوانو
- 35 جیوے جیوے پاکستان
- 36 اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھئے
- 37 منظر دھندھلے روشنیاں مدھم ہوتی ہیں
- 38 زیست کم لگتی تھی دشوار زیادہ نکلی
- 39 کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
- 40 اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
- 41 ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
- 42 رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے
- 43 کبھی تو کھل کے برس ابر مہرباں کی طرح
- 44 ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
- 45 کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملا
- 46 کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
- 47 تشنگی اچھی نہیں رکھنا بہت
- 48 بیٹھا ہے میرے سامنے وہ
- 49 کچھ لوگ
- 50 شرارے
- 51 چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
- 52 کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
- 53 کہاں میں کہاں ہو تم
- 54 پھول کی سکھ کی صبا کی زندگی
- 55 اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
- 56 مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
- 57 چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
- 58 جو دور سے بھی نظر تجھ پہ یار ہم کرتے
- 59 تن تنہا جو سنگ چلے تھے دنیا کے
- 60 اداسی بین کرتی ہے
- 61 یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
- 62 کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے
- 63 ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
- 64 دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
- 65 ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
- 66 ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا
- 67 کیسے کہیں کہ جان سے پیارا نہیں رہا
- 68 زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں
- 69 اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے
- 70 ایک نامقبول قربانی ہوں میں
- 71 اور آہستہ کیجیے باتیں
- 72 فصل گل ہے سجا ہے مے خانہ