نایاب

نایاب

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے تنہائی کے صحرا میں اگر تو نکل آئے کیسا لگے اس پار اگر موسم گل میں تتلی کا بدن اوڑھ کے جگنو نکل آئے پھر دن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا پھر شام ہوئی آنکھ میں آنسو نکل آئے بے چین کیے رہتا ہے دھڑکا یہی جی کو تجھ میں نہ زمانے کی کوئی خو نکل آئے پھر دل نے کیا ترک تعلق کا ارادہ پھر تجھ سے ملاقات کے پہلو نکل آئے

شاعر: نوشی گیلانی — پیشکش: نایاب

‹ کلام کی فہرست پر واپس