واجد علی

واجد علی

مقرر — ایکس پروفائل

تعارف کلام

میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا

میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا​ ہنستا ہنساتا ،پیتا پلاتا ، چلا گیا​ نقش و نگار زیست بنانے کا شوق تھا​ نقش و نگار زیست بناتا چلا گیا​ اتنے ہی اختلاف ابھرتے چلے گئے​ جتنے تعلقات بڑھاتا چلا گیا​ طوفاں کے رحم پر تھی فقیروں کی کشتیاں​ طوفاں ہی کشتیوں کو چلاتا چلا گیا​ دنیا مری خوشی کو بہت گھورتی رہی​ میں زندگی کا ساز بجاتا چلا گیا​ وہ رفتہ رفتہ جام پلاتے چلے گئے​ میں رفتہ رفتہ ہوش میں آتا چلا گیا​ ہر مے کدے سے ایک عقیدت تھی اے عدم​ ہر مہ جبیں سے آنکھ ملتا چلا گیا​

شاعر: عبدالحمیدعدم — پیشکش: واجد علی

‹ کلام کی فہرست پر واپس