پیش کردہ کلام
- 01 ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
- 02 جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
- 03 یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
- 04 یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسے
- 05 بند دریچے سونی گلیاں ان دیکھے انجانے لوگ
- 06 ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
- 07 ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بس
- 08 میں حادثوں سے جام لڑاتا چلا گیا
- 09 جو لوگ جان بوجھ کے نادان بن گئے
- 10 اس تفکر میں سرِ بزم سحر ہوتی ہے
- 11 مریض محبت انہیں کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
- 12 دیکھے گا وہ، دِکھائے گا بھی، کیا کریں اُسے
- 13 کیا بدن ہوگا، جلا ہے دریچوں کے قریب